Uncategorized

اگر امریکہ تقسیم ہو جائے تو کیا ہو گا؟

گذشتہ چند سالوں کے دوران امریکی عوام کے درمیان پولرائزیشن بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے حامی آئے روز سخت گیر ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ غلامی کے مسئلے پر خانہ جنگی کے بعد امریکہ کا جو حال تھا کم و بیش آج ویسا ہی حال ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ماہرِ سیاسیات برنارڈ گرافمین کا کہنا ہے کہ آج امریکی پارلیمان میں جس قدر پولرائزیشن ہے ویسی گذشتہ 100 سال میں نظر نہیں آئی۔

امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا بھی اس پولرائزیشن کا شکار ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں، کیلیفورنیا کے عوام اور باقی امریکیوں کے درمیان اختلافات بڑھے ہیں۔

اسی تناظر ایسی تجاویز بھی آئيں جن میں کیلیفورنیا کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے سے لے کر امریکہ سے علیحدہ کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بوسٹن کی ٹفٹس یونیورسٹی میں مدرس مونیکا ٹافت کہتی ہیں کہ کیلیفورنیا کے لوگوں کو یہ یقین ہو چلا ہے کہ مرکزی حکومت ان کے مفادات کی حفاظت نہیں کر رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کیلیفورنیا کی اقتصادی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں منقسم کر دیا جائے۔

بہت سے معاملوں پر کیلیفورنیا کے لوگ باقی امریکی باشندوں سے مختلف ہیں۔

اگر کیلیفورنیا علیحدہ ہو جائے تو کیا ہو گا؟

اگرچہ امریکہ سے کیلیفورنیا کی علیحدگی کا دور تک امکان نہیں ہے لیکن اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ ایسا ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہو گا؟ امریکہ اور باقی دنیا پر اس علیحدگی کے کیا اثرات پڑیں گے؟

امریکی آئین کسی بھی ریاست کی علیحدگی کی اجازت نہیں دیتا۔ کیلیفورنیا کے عوام بھی امریکہ سے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں لیکن اگر ایسا ہو تو کیا امریکہ میں دوبارہ خانہ جنگی ہو گی؟

امریکہ میں ابھی کسی خانہ جنگی کے آثار نہیں ہیں لیکن جب کسی بھی ملک کا ایک حصہ علیحدہ ہوتا ہے تو فساد برپا ہوتا ہے۔ امریکہ میں بھی 157 سال پہلے ایسا ہوا تھا جب سیاہ فاموں کو غلام بنائے رکھنے کی حامی جنوبی ریاستوں نے امریکہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔

اس خانہ جنگی میں چھ لاکھ 20 ہزار امریکیوں نے اپنی جان گنوائی تھی اور امریکہ کی بنیاد ہل گئی تھی۔

دنیا میں ایسی کئی مثالیں ہیں جب کوئی ملک تقسیم ہوا تو وہاں فسادات ہوئے۔ سنہ 1947 میں جب انڈیا اور پاکستان تقسیم ہوئے تو دس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

اسی طرح سنہ 1971 میں جب بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہوا تو بڑے پیمانے پر تشدد ہوا۔ اسی طرح جب افریقی ملک اریٹیریا نے ایتھوپیا سے علیحدگی کا اعلان کیا تو تقریبا 30 سال تک وہاں خانہ جنگی رہی۔

لیکن جب چیک اور سلوواک جمہوریہ سنہ 1993 میں الگ ہوئے تو معاملہ بہت پرسکون انداز میں حل ہو گیا۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کا عمل بھی ابھی تک پرامن رہا ہے۔

اگر کیلیفورنیا امریکہ سے الگ ہو جائے تو رپبلکن پارٹی کے حامی بہ خوشی کہیں گے کہ چلو بلا ٹلی۔ لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی شاید اسے قبول نہ کر سکیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کیلیفورنیا کئی دہائیوں سے ڈیموکریٹک پارٹی کا گڑھ رہا ہے۔ اس کی سیاسی طاقت کے بغیر، ڈیموکریٹک پارٹی کا کوئی امیدوار شاید ہی امریکہ کا صدر بن سکے گا۔

سیاست کا پاور ہاؤس

کیلیفورنیا سب سے زیادہ آبادی والی امریکی ریاست ہے۔ اگر یہ امریکہ سے علیحدہ ہو تو پھر امریکہ میں رپبلکن پارٹی کا دبدبہ قائم ہو جائے گا اور اسے آسانی سے پارلیمان میں اکثریت مل جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سنہ 1990 کی دہائی کے بعد امریکہ میں اوباما یا کلنٹن صدر منتخب ہوئے ہیں تو اس میں کیلیفورنیا کا اہم کردار رہا ہے۔

کیلیفورنیا کی علیحدگی کی صورت میں باقی ماندہ ڈیموکریٹک پارٹی والوں کا رواداری چھوڑ کر انتہا پسند نظریات کے حامی ہونے کا خدشہ ہے جیسا کہ سنہ 1950 اور 1960 کی دہائی میں صدر آئزن ہاور کے دور میں تھا۔

اگر کیلیفورنیا علیحدہ ہوتی ہے تو امریکی معیشت کی بنیاد ہل جائے گی۔ کیلیفورنیا دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہو گی۔ اس کی اقتصادی طاقت برطانیہ سے بھی زیادہ 2.7 کھرب ڈالر ہو گی۔ امریکی حکومت کو کیلیفورنیا سے سب سے زیادہ ٹیکس ملتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی کرنسی ڈالر کی طاقت کم ہو جائے گی۔ ڈالر کی جگہ یورپی یونین کی کرنسی یورو یا چین کی کرنسی یوآن لے گی۔

کیلیفورنیا کے علیحدہ ہونے کے بعد امریکہ سپر پاور نہیں رہے گا۔ وہ اپنے اتحادیوں پر زیادہ منحصر ہو گا۔ دائیں بازو کے رجحان میں اضافے کے بعد وہ روس اور ہنگری جیسے ممالک کے زیادہ قریب ہو گا جبکہ پڑوسی ملک کینیڈا کے ساتھ کے تعلقات اچھے نہیں رہ جائيں گے۔ یہی حال میکسیکو کے ساتھ تعلقات کا ہو گا۔

کیلیفورنیا کی علیحدگی کی صورت میں ہم گلوبل وارمنگ اور آلودگی پر کنٹرول کی سمت میں تیز تر پیش رفت دیکھیں گے لیکن امریکہ میں انتہا پسندانہ سوچ میں اضافہ دنیا کے اتحاد میں رکاوٹ ہو گی۔

پناہ گزینوں کی جنت

کیلیفورنیا کی فکر اعتدال پسند ہے۔ اس صورت میں امریکہ آنے والے اکثر لوگ کیلیفورنیا کا رخ کریں گے۔ سلیکن ویلی جیسے کاروباری علاقوں میں نئے لوگوں کی آمد سے ترقی کی رفتار بڑھے گی۔

کیلیفورنیا کی زراعت میں لاطینی امریکی آبادی کی ایک بڑی تعداد ہے۔ وہ ریاست کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ علیحدگی کے بعد کیلیفورنیا تارکین وطن کے قانون میں آسانی پیدا کر سکتا ہے۔

اس صورت میں کیلیفورنیا کے اندر شمال اور جنوب کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ جہاں جنوبی کیلیفورنیا کے لوگ تارکین وطن کے بارے میں اعتدال پسند ہیں وہیں شمالی کیلیفورنیا کے لوگ تارکین وطن کی آمد پر روک چاہتے ہیں۔

امریکہ سے کیلیفورنیا کی علیحدگی کا ایک اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میری لینڈ سے لے کر پنسلوانیا جیسی کئی لبرل ریاستیں بھی امریکہ سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے لگیں کیونکہ کیلیفورنیا کی علیحدگی کے بعد امریکہ میں قدامت پسندانہ رجحان کا حاوی ہونا لازمی ہے اور پھر لبرل آبادی والی ریاستیں علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائيں گی۔

ہم ایسا اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم سوویت یونین کے ٹوٹنے کے دوران ایسا دیکھ چکے ہیں۔ پہلے لاٹویا، لتھوانیا اور ایسٹونیا نے سوویت یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد، جارجیا، یوکرائن اور مالڈووا بھی اسی راستے پر چل نکلے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ کیلیفورنیا کے علیحدہ ہونے کے بعد، جنوبی ریاست فلوریڈا بھی امریکہ سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرے۔ ٹیکسس ریاست میں بھی کچھ لوگ اس کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بہت سی امریکی ریاستیں جو مالی اعتبار سے خوشحال ہیں ان میں ایک علیحدہ ملک کے طور پر آزاد ہونے کا خیال پیدا ہو سکتا ہے۔

لہذا اگر کبھی ایسا ہوا تو یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بکھرنے کا آغاز ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close